ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔ اس عقیدے کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ قرآن کریم اور احادیث میں اس عقیدے کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
کتاب کے بارے میں
کتاب «ختم نبوت» شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کی علمی تحریر ہے۔ اس میں عقیدہ ختم نبوت کی حکمت اور اس کے مختلف فکری و تاریخی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مصنف یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ نبوت کا سلسلہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کیوں ختم ہوا؟
اس کے ساتھ وہ اسلام کی ہمیشگی، انسانی ضروریات اور زمانے کے بدلتے تقاضوں پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔
کتاب میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں:
ختم نبوت کی حکمت اور راز۔
تاریخ کا جبر اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات۔
انسان کی انفرادی اور اجتماعی ضروریات۔
زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضے۔
اسلام میں تحرک اور انعطاف کی گنجائش۔
اجتہاد کی اہمیت اور کردار۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ محمد خالد فاروقی نے کیا ہے۔ دستیاب نسخے میں کتاب 82 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے 1406ھ، بمطابق 1986ء میں شائع کیا گیا۔
اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں
اس کتاب کے مطالعے سے درج ذیل موضوعات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے:
عقیدہ ختم نبوت کا مفہوم اور اس کی حکمت۔
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آخری نبی ہونے کی حیثیت۔
اسلام کے دائمی اور عالمگیر دین ہونے کی وجوہات۔
انسانی معاشرے کی بدلتی ہوئی ضروریات۔
زمانے کے تقاضوں کے ساتھ اسلامی تعلیمات کی مطابقت۔
اجتہاد کی اہمیت اور اسلامی معاشرے میں اس کا کردار۔
ختم نبوت کے فکری اور عقلی دلائل۔
اس کتاب کے مصنف کے بارے میں
شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری (1298–1358ش) معروف شیعہ عالم دین، فلسفی، متکلم اور اسلامی مفکر تھے۔ آپ 13 فروری 1920ء کو فریمان، ایران میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مشہد کے حوزہ علمیہ میں دینی علوم حاصل کیے۔ پھر 1937ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے قم تشریف لے گئے۔
قم میں آپ نے امام خمینی، علامہ سید محمد حسین طباطبائی، آیت اللہ بروجردی اور دیگر اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ آپ نے فلسفہ، فقہ، اصول، کلام اور تفسیر کے میدانوں میں نمایاں علمی خدمات انجام دیں۔
بعد میں تہران منتقل ہوئے اور وہاں تدریس و تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ نے حسینیہ ارشاد میں بھی علمی اور فکری سرگرمیاں انجام دیں۔ آپ کی تحریروں میں اسلامی عقائد، فلسفہ، اخلاق، معاشرت اور جدید فکری مسائل پر خصوصی توجہ ملتی ہے۔
آپ کی معروف تصانیف میں
«اصول فلسفہ و روش رئالیسم» کی شرح و تعلیقات، «خدمات متقابل اسلام و ایران»، «عدل الٰہی»، «مسئلہ حجاب»، «انسان و سرنوشت» اور «داستان راستان» شامل ہیں۔
11 مئی 1979ء کو تہران میں آپ کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کی علمی تحریریں آج بھی اسلامی فکر اور دینی تعلیمات کے مطالعے میں اہم مقام رکھتی ہیں۔
یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے
یہ کتاب اسلامی عقائد اور فلسفے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مفید ہے۔ دینی مدارس کے طلبہ، علماء، اساتذہ اور محققین اس کے مطالعے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو ختم نبوت کی حکمت، اسلام کی ہمیشگی اور اجتہاد کے کردار کو عقلی و فکری انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں، اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔