اسلامی جمہوریہ کا دستوری ڈھانچہ اور اس کے مصادر قوت

اسلامی جمہوریہ کا دستوری ڈھانچہ اور اس کے مصادر قوت

اسلامی جمہوریہ کا دستوری ڈھانچہ اور اس کے مصادر قوت

Publish number :

چاپ اوّل

Publish location :

لاہور ۔ پاکستان

Number of volumes :

1

(1 پسندیدگی)

QRCode

(1 پسندیدگی)

اسلامی جمہوریہ کا دستوری ڈھانچہ اور اس کے مصادر قوت

اسلامی جمہوریہ کا دستوری ڈھانچہ اور اس کے مصادر قوت ایک علمی و تحقیقی موضوع پر مبنی کتاب ہے۔ اس میں اسلامی جمہوریہ کے آئینی نظام اور اس کی قوت کے بنیادی ذرائع کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کتاب اسلامی حکومت اور سیاسی نظام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

کتاب کے بارے میں

اس کتاب میں اسلامی جمہوریہ کے دستوری ڈھانچے اور حکومتی نظام پر توجہ دی گئی ہے۔ اس موضوع میں آئین، حکومتی اداروں اور ان کے اختیارات کا مطالعہ شامل ہے۔ اس کے ساتھ اسلامی تعلیمات اور عوامی شرکت کے کردار کو بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ کتاب کا موضوع یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ ایک اسلامی جمہوری نظام کس طرح تشکیل پاتا ہے۔ اس میں ریاست کے قانونی اور نظریاتی بنیادوں کا جائزہ لینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں

اس کتاب کے مطالعے سے قارئین آئینی نظام اور حکومتی اداروں کے کردار سے واقف ہو سکتے ہیں۔ وہ ریاستی اختیارات کی تقسیم اور قانون کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسلامی اصولوں اور عوامی رائے کے درمیان تعلق کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔ یہ موضوع سیاسی اور دستوری مباحث کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں

آیت اللہ شہید سید محمد باقر صدر (1935ء–1980ء) شیعہ عالم دین، فقیہ، فلسفی اور اسلامی مفکر تھے۔ انہوں نے اسلامی فلسفے، معاشیات اور سیاسی فکر کے میدان میں اہم علمی خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریروں میں اسلامی نظامِ حکومت اور اسلامی معاشرت کے بنیادی اصولوں پر بحث ملتی ہے۔ ان کی معروف تصانیف میں فلسفتنا، اقتصادنا اور الأسس المنطقية للاستقراء شامل ہیں۔ وہ اپریل 1980ء میں عراق میں شہید ہوئے۔ ان کے علمی افکار آج بھی اسلامی علوم اور سیاسی فکر کے مطالعے میں اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے

یہ کتاب سیاسیات اور قانون کے طلبہ کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ اسلامی حکومت اور آئینی نظام میں دلچسپی رکھنے والے قارئین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ محققین، اساتذہ اور اسلامی سیاسی فکر کا مطالعہ کرنے والے افراد کے لیے بھی یہ موضوع قابلِ توجہ ہے۔